روشن مستقبل بسم الله خوانی


روشن مستقبل
بسم اللہ خوانی
از. محمد گل ریز رضا مصباحی بریلی شریف
جامعۃ المدینہ فیضان عطار تاج پور
بیٹا! حسن اٹھو صبح ہوچکی ہے جلدی سے وضو کرکے فجر کی نماز ادا کرلو خالد صاحب نے کہا بیٹا حسن! آج اپنے گھر بہت مہمان آرہے ہیں تمہارے سبھی دوست بھی آییں گے اس لیے نہادھوکر اچھے کپڑے پہن لو.
حسن.. ابو آج کیا ہونے والا ہے کیا آج کویی خاص فنکشن ہونے والا ہے؟
ابو.. جی بیٹا حسن آج تم کچھ بڑے ہوگیے ہو آج تمہاری بسم اللہ خوانی کی جایے گی زاھد ماجد شاھد تمہارے دوست بھی آنے والے ہیں اور تمہاری خالہ خالو مامی ماموں اور بھی بہت سے رشتہ دار آنے والے ہیں کچھ دیر میں مولوی صاحب بھی آجائیں گے
حسن… ابو یہ بسم اللہ خوانی کیا ہوتی ہے اور یہ مولوی صاحب کیا کریں گے
ابو… بیٹا جب بچہ کچھ بڑا ہوجاتا ہے تو گھر والے بسم اللہ خوانی کراتے ہیں مولوی صاحب مختلف دعائیں اور کلمہ شریف وغیرہ پرھاتے ہیں
دوپہر کے وقت تک سب مہمان اور دوست آگیے اور مولوی صاحب بھی تشریف لے آیے اور بسم اللہ خوانی شروع ہویی حسن مولوی صاحب کے سامنے دو زانو ہوکر بیٹھ گیا
حسن بہت ڈر رہا تھا اور کچھ گبھرا رہا تھا مولوی صاحب نے کلمہ شریف اور کچھ دعائیں پڑھائیں ڈرتے ڈرتے اس نے کلمہ شریف اور کچھ دعائیں بھی پڑھیں مہمانوں اور دوستوں نے پیسے دینا شروع کیے سب لوگ خوش تھے بسم اللہ خوانی کے بعد دوستوں احباب کے درمیان مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور سب نے باری باری حسن کو مبارک باد پیش کی اور اس کی بہت تعریف کی
لیکن حسن کے ابو کے چہرے پر کچھ اداسی کے آثار تھے
جب سب مہمان رخصت ہوگیے
تو خالد صاحب نے حسن کو اپنے کمرے میں بلایا اور اپنے قریب بٹھایا اس کے سر پر ہاتھ پھیرا مبارک باد دیتے ہویے پیٹھ تھپتھپایی اور کہا بیٹا حسن آج تم نے بہت اچھی طرح سے کلمہ شریف دعائیں وغیرہ پڑھیں لیکن تم پڑھتے وقت اتنا گھبرا کیوں رہے تھے
حسن نے کہا.. ابو اتنے سارے لوگوں کے سامنے پڑھتے وقت مجھے کچھ ڈر لگ رہا تھا اور شرم بھی لگ رہی تھی اورمجھے بسم اللہ خوانی کے بارے میں پہلے سے کچھ زیادہ معلوم بھی نہیں تھا
پھر خالد صاحب نے حسن کو بتایا.بیٹا حسن! آج سے سو سال پہلے بریلی شریف ہندوستان میں ایک بچہ پیدا ہوا تھا جب اس کی عمر تقریبا چار سال ہویی اور بسم اللہ خوانی شروع ہویی تو استاذ صاحب نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد با تا ثا جس طرح پڑھایا جاتا ہے پڑھایا جب پڑھتے ہویے لام الف پر پہنچے تو استاذ صاحب نے فرمایا کہ لام الف بچہ خاموش ہوگیا مولوی صاحب نے دوبارہ پڑھایا لام الف بچے نے کہا حضرت یہ دونوں تو پڑھ چکے ہیں،لام بھی الف بھی، یہ دوبارہ کیسا؟ قریب موجود دادا نے کہا بیٹا استاذ کا کہا مان لو جو کہتے ہیں پڑھو بچے نے پڑھ لیا لیکن دادا سے کئ سوالات کیے جن کے جوابات دادا صاحب نے عطا فرمائے(حیات اعلی حضرت جلد اول ص 89 ناشر. امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف)
حسن بیٹا! جانتے ہو وہ مدنی منا کون تھا
حسن… نہیں ابو نہیں معلوم.
ابو.. بیٹا! وہ بچہ کوئی اور نہیں بلکہ ہم سب کے امام سنیت کی جان اور پہچان امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ ہیں.
حسن.. ابو میں بھی علم دین حاصل کروں گا اور آپ کا نام روشن کروں گا اور کبھی آپ کو مایوس نہیں کروں گا
خالد صاحب نے حسن کو خوشی خوشی گلے لگایا اور اس کو بہت دعائیں دے کر رخصت کیا.


Post a Comment

0 Comments