امام احمد رضا خان ایک عبقری شخصیت ahmad-raza-khan-ek-abqari-shakhsiat


امام احمد رضا خان ایک عبقری شخصیت




جب سے اس دارِ فانی کا وجود ہوا اور اس فرشِ گیتی پر انسانوں
نے سکونت اختیار کی نہ جانے کتنے لوگوں نے اپنے قدومِ میمنت سے اس عالم کو شرف
بخشا اور اس کے مقام  ومرتبہ کو دوبالا کیا
۔اس فرشِ گیتی پر اپنے وقت کے مفکرین،مدبرین،مصنفین اور خطبا وغیرہ جلوہ فگن ہوئے
ہر ایک نے اپنی علمی صلاحیتوں سے اکنافِ عالم کو روشن وتابندہ کیا  اور یہ سلسلہ برابر چلتا رہا یہاں تک کہ چودہویں
صدی میں ہندوستان کی سر زمین پر  بریلی
شریف اترپردیش میں ایک ایسا تابندہ ستارہ جلن فگن ہوتا ہے جو امام عاشقاں ،محقق
دوراں ،علامۂ زماں،کثیر الاحساں،معتمد عالمیاں،معلم فقیہاں ،تاج العلماء ،تاج الحکماء،سراج
الصلحاء،سراج الفقہاء،صاحب فہم وذکا،امام المشائخ والفقہاء،بقیۃ السلف حجۃ الخلف،تاج
الفحول،جامع معقول ومنقول،محب اولاد بتول،فاضل جلیل،عالم نبیل،محدث عدیل،شمشیر بے
نیام،رہنماے ہر خاص وعام،سید العلماء والعلام،قدوۃ السالکین،زبدۃ السالکین،حجۃ
السالکین،سند المحدثین،سلطان العاشقین،علم وحکمت کے بحر بیکراں،امام اعظم کے تدبر
کے نشاں،کنز الکرامت ،جبل الاسقامت ،غواص بحرِ معرفت،صاحب رشدو ہدایت،مخزن علوم
شریعت ومعرفت،وارثِ تاج مجددیت،مجدد مائۃ ماضیہ،مؤید ملت طاہرہ ،صاحب حجت قاہرہ ،مطلع
انوار رحمانی،منبع اسرارِ سنانی،فانوس نورِ حقانی ،نائب غوثِ صمدانی،جانشینِ امام
ربانی،حق وصداقت کی نشانی:الحافظ  العالم
الفاضل المحدث المفسر المدقق المفکر المؤرخ المتکلم الشاہ امام احمد رضا خان رضی
اللہ تعالی عنہ ہیں۔




اعلی حضرت رضی اللہ عنہ سے پہلے بہت  سارے وقت کے عظیم فقہا گزرے جنہیں چار سے پانچ  یا اُس سے کچھ زیادہ فنون میں مہارت حاصل تھی
،لیکن جب آپ کی ذات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو
تقریبًا ۵۲ علوم عطا فرماے ،بعض نے تو سوسے بھی زیادہ علوم وفنون ثابت کیے
ہیں،ایسا مفکر گزشتہ ۱۲ ویں اور ۱۳ ویں صدی ہجری میں نظر نہیں آتا ہے ،جس مسئلہ
پر قلم اٹھایا تو مسئلہ کے جواب میں پورا رسالہ ہی تیار کردیا۔




درج ذیل سطور میں اعلی
حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کی جلالت علمی وذہانت کو ملاحظہ کریں گے ۔




ولادت با سعادت:اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت شہر بریلی شریف محلہ جسولی  میں ۱۰؍ شوال المکرم ۱۲۷۲ھ روز شنبہ وقتِ ظہر
مطابق ۱۴؍جون ۱۸۵۶ء کو ہوئی ۔(حیات اعلی حضرت:ج۱،ص:۴۴)۔




تعلیم:آپ
کے جدِ امجد مولانا رضا علی خاں نے عقیقے کے دن ایک خوش گوار خواب دیکھا جس کی
تعبیر یہ تھی کہ یہ فرزند فاضل وعارف ہوگا۔آپ نے چار سال کی عمر شریف میں قرآن
شریف  ناظرہ ختم کیااور چھ سال کی عمر میں
ماہِ مبارک ربیع الاول شریف میں منبر پربہت
بڑے مجمع میں میلاد شریف پڑھا۔(حیات اعلی حضرت :ج۱،ص:۶۱)۔




چھ سال کی عمر شریف میں  ایک عرب سے آنے والے شخص سے کافی دیر تک فصیح
عربی زبان میں بات چیت کی،آٹھ سال کی عمر میں دورانِ تعلیم درسِ نظامی میں داخل
نصاب کتاب ’’ہدایۃ النحو‘‘ کی عربی زبان میں شرح فرمائی ۔




فاضلِ بریلوی قدس سرہ نے تمام مروّجہ علوم وفنون اپنے والد
ماجد سے پڑھ کر تقریبًا ۱۴ سال کی عمر میں سندِ فضیلت حاصل کی،اور مسندِ تدریس
وافتا  کو زینت بخشی، والد ماجد کے علاوہ حضرتشاہ
آل رسول مارہروی ،علامہ احمد بن زینی دحلان مفتئ مکہ مکرمہ، علامہ عبد الرحمن
مکی،علامہ حسین بن صالح مکی اور حضرت مولانا شاہ
ابو الحسین احمد نوری  رضی اللہ
عنہم سے بھی استفادہ کیا،امام احمد رضا نے کچھ علوم تو اپنے زمانے کے متبحر علما
سے پڑھے،باقی علوم خداداد قابلیت کی بنا پر مطالعہ کے ذریعہ حل کیے اور نہ صرف
پچاس سے زائد علوم وفنون میں محیر العقول مہارت حاصل کی بلکہ ہر فن میں تصانیف بھی
یاد گار چھوڑیں۔




امام احمد رضا بریلوی ۱۴؍ رمضان المبارک ۱۲۸۶ھ؍۱۸۷۰ء کو
پونے چودہ سال کی عمر میں علومِ دینیہ کی تحصیل سے فارغ ہوے ،اسی دن رضاعت کے ایک
مسئلے کا جواب لکھ کر والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا جو بالکل صحیح تھا،اسی دن سے
فتوی نویسی کا کام آپ کے سپرد کردیا گیا ،اُس دن سے آخر عمر تک مسلسل فتوی نویسی
کا فریضہ انجام دیتے رہے اور فتاوی رضویہ کی ضخیم بارہ جلدوں کا گراں قدر سرمایہ
امتِ مسلمہ کو دے گئے ،رد المحتار علامہ شامی پر پانچ جلدوں جلدوں میں حاشیہ
لکھا،قرآن پاک کا مقبول انام ترجمہ لکھا جو کنز الایمان کےنام سے معروف ومشہور
ہے۔(اعلی حضرت بریلوی،ص:۳)۔




امام احمد رضا بریلوی نے اللہ تعالی کی عظمت وجلالت کے خلاف
لب کشائی کرنے والوں کےرد میں ’’سبحان السبوح عن عیب کذب مقبوح‘‘کے علاوہ پانچ رسالے لکھے ،اللہ تعالی کو جسم ماننے والوں  کے رد میں رسالہ’’قوارع القھار علی
المجسمۃ الفجار‘‘تحریر فرمایا،دین اسلام کے مخالفین فلاسفہ کے خلاف
رسالہ’’الکلمۃ الـملھمہ‘‘رقم فرمایا۔




عبقری فقیہ:امام
احمد رضا خان فاضل بریلوی مروّجہ علومِ دینیہ مثلًا
تفسیر،حدیث،فقہ،کلام،تصوف،تاریخ ،سیرت ،معانی ،بیان، عروض ،ریاضی،توقیت
،منطق،فلسفہ وغیرہ کے یکتاے زمانہ فاضل
تھے،صرف یہی نہیں بلکہ طب،علم جفر،تکسیر ،زیجات،جبرو
مقابلہ،لوگارثم،جیومیٹری،مثلث کروی وغیرہ علوم میں بھی کامل مہارت رکھتےتھے،یہ وہ
علوم ہیں جن سے عام طور پر علما تعلق ہی نہیں رکھتے ،انہوں نے پچاس سے زیادہ علوم
وفنون میں تصانیف  کا ذخیرہ یاد گار چھوڑا
اور ہر فن میں قیمتی تحقیقات کا اضافہ کیا ۔




عربی لغات:علامہ
شامی رحمۃ اللہ علیہ نے لفظ ’’طفّ بہ‘‘پڑے کے معنی میں استعمال کیا اور فرمایا’’حتی طفّ
مِن جَوانِبِھَا‘‘اس پر امام احمد رضا خان نے فرمایا:’’مجھے یہ فعل اور اس کا
مصدر صحاح ،صراح،مختار ،قاموس،تاج العروس،مفردات،نہایہ ،دّر نثیر ،مجمع البہار اور
مصباح میں نہیں ملا،ہاں قاموس میں صرف اتنا ہے کہ ’’طف الملوک
والاناء وطففہ وطفافہ ‘‘وہ چیز جو اُس برتن کے کناروں کوبھر
دے۔(جد المحتار،ج:۱،ص:۱۲۹)۔




امام احمد رضا خان کو عربی زبان پر اس قدر عبور تھا کہ ایک
ناموس لفظ دیکھتے ہی اُسے غریب سمجھا اور اُس کی غرابت پر دس مستند کتابوں کا
حوالہ پیش کیا  ان ماخذ پر عربی  لغات بھی ہیں اور لغات حدیث بھی ۔




قوّتِ حافظہ:جناب
سید ایوب علی صاحب کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ فرمایا کہ بعض ناواقف میرے نام کے ساتھ
حافظ لکھ دیا کرتے ہیں حالاں کہ میں اِس لقب کا اہل نہیں ہوں ،بس اُسی دن سے دور
شروع فرمادیا جس کا وقت غالبًا عشا کا وضو فرمانے کے بعد سے جماعت قائم ہونے تک
تھا یہاں تک کہ تیسویں روز تیسواں پارہ آپ نے سنایا۔(حیات اعلی حضرت،ملخصًا
:ج،۱،ص:۹۶)۔




عقود الدرّیہ کی دو ضخیم جلدوں کا ایک
رات میں مطالعہ:
علامہ ظفر الدین فرماتے ہیں کہ ایک
مرتبہ اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ حضرت وصی احمد محدث سورتی کے یہاں پیلی بھیت
تشریف لے گئے،ملاقات کے بعد دورانِ گفتگو عقود الدرّیہ کا ذکر نکلا۔محدث صاحب نے
فرمایا کہ میرے کتب خانے میں موجودہے  اعلی
حضرت نے فرمایا :میں نے نہیں دیکھی ہے جاتے وقت میرے ساتھ کردینا ۔محدث صاحب نے
بخوشی قبول فرمایا اور کتاب لاکر حاضر کردی مگر ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ: جب
ملاحظہ فرمالیں  تو بھیج دینا ۔آپ کے یہاں
تو بہت ساری کتابیں ہیں یہاں تو گنتی کی چند کتابیں ہیں۔اعلی حضرت کا اُسی دن
واپسی کا ارادہ تھا لیکن ایک جان نثار نے آپ کی دعوت کردی اس لیے وہیں رک جانا
پڑا ۔رات کو اعلی حضرت نے ’’عقود الدرّیہ‘‘کو جو ایک ضخیم کتاب دوجلدوں میں تھی
ملاحظہ فرمایا۔دوسرے دن دوپہر کے وقت  جب
واپسی کا ارادہ فرمایا’’تو مجھ سے فرمایا:’’عقود الدرّیہ‘‘محدث صاحب کو دے آؤ
۔مجھے تعجب ہوا کہ ارادہ تو لے جانے کا تھا واپس کیوں فرمارہے ہیں ۔لیکن بولنے کی
ہمت نہ ہوئی ۔جب محدث صاحب کی خدمت میں  کتاب لے کر حاضر ہوا ،محدث صاحب زنانہ مکان سے
اعلی حضرت کو روانہ کرنے کے لیے آرہے تھے میں نے کتاب دے کر اعلی حضرت کا جملہ
اداکیا کہ ’’اسے محدث صاحب کو دے آؤ‘‘جب محدث صاحب پہنچے تو فرمایا:حضور میرےاس
کہنے کا کہ جب ملاحظہ فرمالیں تو بھیج دینا شاید آپ کو ملال ہوا کہ اس کتاب کو
واپس کردیا،اعلی حضرت نے فرمایا: ارادہ بریلی ساتھ لے جانے کا تھا ،اور اگر کل ہی
جاتا تو اس کتاب کو ساتھ لے جاتا ،لیکن جب کل جانا نہ ہوا تو شب میں اور صبح کے
وقت پوری کتاب دیکھ لی ،اب لے جانے کی ضرورت نہیں،حضرت محدث صاحب نے فرمایا:بس ایک
مرتبہ دیکھ لینا کافی ہوگیا ؟اعلی حضرت نے فرمایا:اللہ کے فضل وکرم سے امید ہے کہ
دوتین مہینہ تک تو جہاں کی عبارت کی ضرورت ہوگی فتاوی میں لکھ دوں گا ،اور مضمون تو
ان شاء اللہ تعالی عمر بھر کے لیے محفوظ ہوگیا۔(حیات اعلی حضرت:ملخصًا ،ج:۱،ص:۹۹)۔




اپنوں اور غیروں نے بھی
اعلی حضرت رضی اللہ عنہ کی مدح سرائی کی ہے اور آپ کی جلالت علمی کو تسلیم
کیا ہے ،کچھ اقوال پیش خدمت ہیں۔




ارباب دانش کی نظر میں:




(۱)  مولوی نظام الدین احمد پوری(وہابی)




’’علامہ شامی اور صاحب فتح القدیر مولانا کے شاگرد ہیں۔یہ
تو امام اعظم ثانی معلوم ہوتے ہیں‘‘۔(سوانح سراج الفقہا)۔




(۲)سید زکریا پاشاہ صاحب
بنوری پشاوری




’’اگر اللہ تبارک وتعالی ہندوستان میں احمد رضا خان بریلوی
کو نہ پیدا کرتا تو ہندوستان میں حنفیت ختم ہوجاتی ‘‘(امام احمد رضا کی فقہی
بصیرت)۔




(۳)ملک غلام علی نائب  ابو الاعلی مودودی صاحب




’’حقیقت یہ  ہے کہ
مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے
ہیں ،اُن کی تصانیف اور فتاوے کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جو علمی
گہرائی میں نے اُن کے یہاں پائی ہے وہ بہت کم علما میں پائی جاتی ہے  اور عشق رسول تو اُن کی سطر بہ سطر سے پھوٹا
پڑتا ہے۔(ارمغان حرم،مطبوعہ لکھنؤ،ص۱۴)۔




(۴)جماعت اسلامی کے بانی
ابو الاعلی مودودی




’’مولانا احمد رضا خاں صاحب کے علم وفضل کا میرے دل میں بڑا
احترام ہے فی الواقع وہ علوم دینی پر بڑی وسیع نظر رکھتے ہیں ،اور اُن کی اس فضیلت
کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔(مقالات یوم رضا،حصہ۲،ص:۴۰)۔




(۵)علامہ سید اسمعیل خلیل
مکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ




’’میں اللہ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر امام اعظم
ابوحنیفہ نعمان رضی اللہ تعالی عنہ ان فتاویٰ کو دیکھتے  تو اُن کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور ان فتاویٰ
کے مؤلف یعنی امام احمد رضا  کو اپنے تلامذہ
میں شامل کر لیتے‘‘۔(الاجازت المتینۃ لعلماء بمکۃ والمدینۃ ،ص:۲۲)




امام احمد رضا کی جلالت علمی کا یہ عالم تھا کہ انھیں جو
عالم بھی ملا عقیدت واحترام کے ساتھ ملا اور ہمیشہ کے لیے ان کا مداح بن گیا ،حضرت
علامہ مولانا وصی احمد محدث سورتی ،عظیم محدث اور عمر میں بڑے ہونے کے باوجود امام
احمد رضا خان سےاس قدر والہانہ تعلق رکھتے تھے کہ دیکھنے والوں کو حیرت ہوتی تھی۔




حضرت علامہ مولانا سراج احمد خانپوری اپنے دور کے جلیل
القدر فاضل تھے اور علمِ میراث میں تو انھیں تخصّص حاصل تھا ۔الزبدۃ السراجیہ
لکھتے وقت ذوی الارحام کی صنف رابع کے بارے میں مفتی بہ قول دریافت  کرنے کے لیے دیوبند،سہارن پور اوردیگر علمی
مراکز کی طرف رجوع کیا کہیں سے تسلی بخش جواب نہ آیا پھر انہوں نے وہی سوال بریلی
بھجوا دیا ایک ہفتہ میں انہیں جواب موصول ہوگیا جسے دیکھ کر ان کا دماغ روشن
ہوگیا  اور وہ تازیست امام احمد رضا کے فضل
وکمال اور تبحر علمی کے گن گاتے رہے ۔




امام احمد رضا سے شدید اختلاف رکھنے والے بھی اُن کی فقاہت
اور تبحر علمی کے قائل ہیں ۔کون نہیں جانتا کہ امام احمد رضا خان نے ندوۃ العلماء
کی صلح کلیت کا سخت تعاقب  اور رد کیا تھا
اس کے باوجود ندوہ کے ناظم اعلی علامہ ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں:




’’ان کے زمانے میں فقہ حنفی اور اُس کی جزئیات پر آگاہی میں
شاید ہی کوئی اُن کا ہم پلہ ہو۔اس حقیقت پر اُن کا فتاوی اور ان کی کتاب ’’کفل
الفقیہ‘‘شاہد ہے جو انہوں نے ۱۳۲۳ھ میں مکہ معظمہ میں لکھی ‘‘(نزھۃ
الخواطر:ج۸،ص:۴۱)۔




وصال مبارک:اسرارِ
شریعت وطریقت کا اجالا پھیلا کر ۲۵؍صفر ۱۳۴۰ھ ؍ ۱۹۲۱ء بروز جمعہ عین اُس وقت عبقريِ
اسلام امام احمد رضا خان قدس سرہ کی روح قفس عُنصری سے اس وقت پرواز کر گئی جب
مؤذن حي علی ا الفلاح کہ رہا تھا۔




محمد گل ریز رضا مصباحی،
بریلی شریف




خادم التدریس جامعۃ المدینہ
فیضان عطار ،ناگ پور،مہاراشٹر




9458201735

Post a Comment

0 Comments